مرکزی مواد پر جائیں

مکہ معاہدہ سے بدر معاہدے تک

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پاکستان، انڈونیشیا، ترکیہ اور قطر کے درمیان طے پانے والے ’بدر معاہدے‘ کے تحت دفاعی ٹیکنالوجی، ریسرچ، پروڈکشن اور مشترکہ مشقوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

مکہ معاہدہ سے بدر معاہدے تک

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پاکستان، انڈونیشیا، ترکیہ اور قطر کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت یعنی میمورنڈم آف انڈر سٹینڈنگ طے پایا ہے جسکے تحت چاروں اسلامی ممالک دفاعی ٹیکنالوجی، ریسرچ، پروڈکشن اور مشترکہ مشقوں کے تحت ایک دوسرے کیساتھ تعاون کرینگے اور مزید کوئی ممالک اس میں شریک ہونا چاہیں تو طے شدہ اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔قبل ازیں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ “مکہ معاہدہ” کے نام سے ہوا ہے جسکے تحت ایک ملک پر حملہ معاہدے کے باقی فریقین پر حملہ تصور ہوگا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون گزشتہ کئی دہائیوں سے بے مثال ہے۔ پاکستانی حرمین شریفین کے دفاع کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ مکہ اور مدینہ کی مقدس سرزمین کا دفاع ہماری جانوں سے عزیز ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی سرزمین پر حملوں کی وجہ سے پاکستانیوں کے دل افسردہ ہیں۔دوحہ میں ہونے والے چار ملکی دفاعی معاہدے کو “بدر معاہدے” کا نام دیا گیا ہے۔ بدر عربی میںفل مون یا عرف عام میں چودھویں کے چاند کو کہتے ہیں۔ یعنی چاربڑے اسلامی ممالک کے درمیان یہ معاہدہ پوری تابناکی کے ساتھ چمکے گا۔ پاکستانی حکومت امریکہ ایران جنگ کے بعد سے سفارتی محاذ پر پے در پے کامیابیاں سمیٹ رہی ہے۔ اسلام آباد معاہدہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پایا تھا جس میں پاکستان تیسرا فریق تھا۔ اس کے تحت اگرچہ خطے سے جنگ کے بادل چھٹے نہیں ہیں مگر وقتی طور پر جنگ بندی عمل میں آ چکی ہے۔ دونوں فریق اپنی اپنی شرائط پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر اسرائیلی انتخابات اور امریکی وسط مدتی انتخابات کی وجہ سے کوئی بڑا فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ ایران کی شرائط تسلیم کرنے کی وجہ سے ان پر شکست خوردگی کا الزام نہ لگ جائے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جنگی جرائم کے عدالتی فیصلے سے بچنے کیلئے انتخابات جیتنے کو زندگی موت کا مسئلہ بنائے ہوئے ہیں، اگرچہ اسرائیل کے عوام کی اکثریت جنگ نہیں چاہتی۔ مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں منڈلانے والے جنگ کے بادل متعلقہ ریاستوں کو اپنے دفاعی نظام اور معاہدوں پر نظر ثانی پر مجبور کر رہے ہیں۔ مکہ معاہدہ سعودی عرب کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کی طرف ایک قدم ہے۔

اس معاہدے کی تفصیلات منظرِ عام پر آنے سے قبل چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں مگر ترکیہ کی پارلیمنٹ میں اس معاہدے کو منظوری کیلئے پیش کیا گیا ہے۔ ترکیہ کے وزیرِ خارجہ نے اس معاہدے کو ڈیفینسو معاہدہ (Defensive Agreement) قرار دیا ہے نہ کہ اوفینسو معاہدہ۔ یعنی یہ معاہدہ شریک ممالک کے دفاع کیلئے کیا گیا ہے۔ یہ دفاعی معاہدہ تینوں مسلم ممالک کی دفاعی تر جیحات طے کرتا ہے۔پاکستان اس معاہدے کا اہم ملک ہے۔پاکستان کے فوجی ترجمان کے مطابق مکہ معاہدہ پر عمل شروع ہو چکا ہے اور سعودی عرب کا دفاع کرنے کیلئے پاکستان موجود ہے۔ اس معاہدے کو قطعی طور پر ایران کے خلاف نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ پاکستان ایران کا برادر ہمسایہ ملک ہے اور وہ کبھی ایران کے خلاف کسی معاہدے میں شامل نہ ہوگا۔

ترکیہ کی دفاعی انڈسٹری جس میں بحری جہازوں کی تیاری، ڈرون ٹیکنالوجی اور ٹینکوں کی تیاری شامل ہے وہ اس معاہدے میں شامل ممالک کی مدد کیلئے دستیاب ہوگی۔ اسی طرح پاکستان کی افرادی قوت، ڈیفنس ٹیکنالوجی جس میں جے ایف تھنڈر طیاروں کی تیاری اور آرڈیننس ایکویپمنٹ شامل ہے وہ اس معاہدے میں شامل ممالک کیلئے فراہم ہونگے۔ سعودی عرب کی طرف سے مالی امداد اور دفاعی سازوسامان کی خریداری کیلئے دستیاب وسائل اس معاہدے میں شامل ممالک کی معاونت کر سکتے ہیں۔ لہٰذا ان وجوہات کی وجہ سے معاہدے میں شریک ممالک ایک دوسرے کی بہتریں معاونت کر سکتے ہیں۔ دس سالہ مدت کیلئے ہونے والا مکہ معاہدہ دوسرے ممالک کیلئے بھی شرکت کا راستہ کھولتا ہے لہٰذا دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔

دوحہ میں ہونے والے بدر معاہدے کے مندرجات اور تفصیلات مکہ معاہدہ سے مختلف دکھائی دیتی ہیں اس میں زور دفاعی پروڈکشن، ٹیکنالوجی میں تعاون اور مشترکہ مشقوں پر ہے تاکہ دفاعی سازوسامان کے استعمال میں مہارت حاصل کی جاسکے، اس سلسلے میں ترکیہ اور پاکستان کو دوسرے ممالک پر سبقت حاصل ہے۔ ترکیہ کی دفاعی پروڈکشن کی برتری اور پاکستان کی ٹیکنالوجی کے میدان میں سبقت بد ر معاہدےمیں شامل ممالک کی مددگار ہوگی اور ان ممالک کے افرادنئی ٹیکنالوجی اور سازو سامان سے متعارف ہو سکیں گے۔مکہ معاہدہ اور بدر معاہدہ مسلمان ممالک کا دوسرے ممالک پر انحصار ختم کرکے آپس میں تعاون کو فروغ دینے کا ذریعہ بنیں گے۔ اس سلسلے میں پاک فوج کے سپہ سالار کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے، جو دوسرے ممالک کے ساتھ ملٹری سفارت کاری کو اپنی ذاتی کاوشوں سے بام عروج پر لے گئے ہیں۔ مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور معاہدہ جات خود انحصاری اور امت مسلمہ کی مضبوطی کیلئے اہم کردار ادا کریں گے۔

مصنف کے بارے میں

محمد خالد وسیم

محمد خالد وسیم

محمد خالد وسیم کے بارے میں فراہم کردہ معلومات صرف ان کے نام تک محدود ہیں۔ ان کی زندگی، تصانیف یا سرگرمیوں کے بارے میں مزید تفصیلات درج نہیں ہیں۔

پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

محمد خالد وسیم. «مکہ معاہدہ سے بدر معاہدے تک.» اقبال فورم، 25 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=52920.

حوالہ دینے کے انداز

محمد خالد وسیم. (25 اکتوبر 2026). مکہ معاہدہ سے بدر معاہدے تک. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=52920

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔