مشرقِ وسطیٰ کو نئی جنگ نہیں، امن درکار ہے
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف دوبارہ مشترکہ فوجی کارروائی پر آمادہ کرنے کی خبریں عالمی امن کے لیے تشویش ناک ہیں، کیونکہ ایران…
مصنوعی ذہانت کا تجزیہ
سرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف دوبارہ مشترکہ فوجی کارروائی پر آمادہ کرنے کی اطلاعات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے امکانات پر بات چیت ہوئی ہے اور امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوری بعد ایسی کارروائی شروع کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ایک اور تباہ کن جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے اور کیا اس کے نتائج کو قابو میں رکھنا ممکن ہوگا؟ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس تنازعے کو ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل کرنے کی کوششیں انتہائی خطرناک ہیں۔ اسرائیلی قیادت کا طرزِ عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ لبنان کی سرحد پر بھی دفاعی انتظامات کیے جا رہے ہیں کیونکہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ایران کے خلاف براہ راست جنگ شروع ہونے کی صورت میں حزب اللہ میدان میں آسکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایک محاذ پر شروع ہونے والی جنگ بہت جلد کئی محاذوں تک پھیل سکتی ہے۔ اس صورتحال کا ایک اہم پہلو امریکی انتظامیہ کے اندر پائے جانے والے اختلافات ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے بعض عہدیدار ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی اور سفارتی دباؤ کے ذریعے معاملات طے کرنے کے حامی ہیں، جبکہ دوسرے حلقے فوجی کارروائی کو مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔ یہ اختلاف دراصل امریکی خارجہ پالیسی کے اس بنیادی سوال کی عکاسی کرتا ہے کہ کیا عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جنگ کو آخری راستہ سمجھتی ہیں یا اسے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کا ایک معمول کا ذریعہ بنا چکی ہیں؟ یہاں ایک بنیادی سوال نیتن یاہو کے کردار سے بھی متعلق ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم مسلسل ایران کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے آئے ہیں اور ان کی حکومت خطے میں اپنی عسکری برتری برقرار رکھنے کو اپنی پالیسی کا اہم حصہ سمجھتی ہے۔ لیکن کسی ملک کی سلامتی کا تصور دوسرے ممالک کی سلامتی کو مستقل خطرے میں ڈال کر قائم نہیں کیا جاسکتا۔ نیتن یاہو اگر امریکی قیادت کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کے اثرات صرف ایران یا اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے۔ خلیجی ممالک، لبنان، عراق، شام اور دیگر علاقائی ریاستیں بھی اس کی لپیٹ میں آسکتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور تیل کی بین الاقوامی منڈیوں پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ عالمی تجارت اور توانائی کی قیمتوں کو شدید متاثر کرسکتی ہے۔اس سارے معاملے میں پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکہ کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کی ہیں۔ قطر سمیت خطے کے متعدد ممالک بھی دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ کوششیں اس لیے بھی قابلِ قدر ہیں کہ جنگ کا خطرہ صرف متعلقہ ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان کے لیے ایران ایک ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ اس کی طویل سرحد، تاریخی تعلقات اور مشترکہ علاقائی مفادات وابستہ ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کے ساتھ پاکستان کے سفارتی اور اقتصادی تعلقات بھی اہم ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ جنگ کے بجائے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کی حمایت کرے۔یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ ایران کی جانب سے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی آمادگی کے اشارے موجود ہیں۔ اگر تہران بات چیت کے لیے تیار ہے اور خطے کے ممالک بھی سفارتی حل کی کوشش کر رہے ہیں تو پھر فوجی کارروائی کی جلدی کیوں؟ کسی بھی تنازعے میں مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے مؤقف کو سننے اور قابلِ قبول سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے تیار ہوں۔ امریکہ کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پابندیوں، دھمکیوں اور فوجی دباؤ کے ذریعے کسی ملک کو مستقل طور پر اپنی شرائط ماننے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح ایران کو بھی علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی اعتماد کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے مذاکرات میں لچک دکھانا ہوگی۔امریکی قیادت کو یہ فیصلہ اپنے قومی اور عالمی مفادات کی روشنی میں کرنا چاہیے، نہ کہ کسی اتحادی رہنما کے سیاسی دباؤ کے تحت۔ اسرائیل امریکہ کا اہم اتحادی ضرور ہے، لیکن اتحادی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی کے فیصلے کسی دوسرے ملک کی حکومت کی ترجیحات کے تابع ہوجائیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اگر واقعی خطے میں امن اور امریکی مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں تو انہیں نیتن یاہو کی جنگی حکمت عملی سے فاصلہ رکھتے ہوئے سفارت کاری کو ترجیح دینا ہوگی۔ دنیا پہلے ہی یوکرین، غزہ اور دیگر تنازعات کے باعث شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔ ایسے میں ایران کے خلاف ایک نئی جنگ عالمی سیاست کو مزید پیچیدہ اور معیشت کو مزید کمزور کرسکتی ہے۔ خطے کا مستقبل کسی نئی جنگ سے نہیں بلکہ باہمی احترام، سیاسی سمجھوتوں اور پائیدار امن سے وابستہ ہے۔عالمی قیادت کو تنازعات کو مذاکرات سے حل کرنے کی کوئی قابلِ عمل مثال قائم کرنا چاہئے۔
مصنف کے بارے میں
اداریہ ۹۲ نیوز
اداریہ ۹۲ نیوز اس مصنف کے پروفائل میں درج نام ہے۔ اس کی سوانح، قومیت اور درجہ بندی کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں ہیں۔
پروفائل اور تمام تحریریںاس مضمون کا حوالہ کیسے دیں
اداریہ ۹۲ نیوز. «مشرقِ وسطیٰ کو نئی جنگ نہیں، امن درکار ہے.» اقبال فورم، 2 نومبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=53803.
تبصرے